رسول اللہ کے یومیہ معمولات
رسول اللہ کے یومیہ معمولات
یہ کوئی معمول کا دن نہیں تھا جو صبح شروع ہو اور شام کو ختم ہو جائے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھرپور سرگرمی کے باعث محسوس ہوتا تھا کہ ہر لمحہ گویا ایک نئی ابتدا ہے۔ آپ موقع کو غنیمت جاننے والے اور ہر لمحے کی قدر کرنے والے انسان تھے۔ نبوت کی فطرت یہ سمجھتی تھی کہ منٹ کا حساب ہے اور اس کا اپنا حاصل ہے۔۔ گھنٹے کا حساب ہے اور اس کا اپنا حاصل ہے۔۔۔ دن کا حساب ہے اور اس کا اپنا حاصل ہے۔۔۔ اور موت اپنے خیمے زندگی کی حدود کے کنارے گاڑے کھڑی ہے۔
ان صفحات میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح و شام گزاریں گے، آپ کے ساتھ مدینہ کے بازاروں میں چلیں گے، آپ کے سادہ کھانے میں سے کھائیں گے، بطور معلم آپ کی شفیق آواز سنیں گے اور نماز میں آپ کی رقت آمیز تلاوت سنیں گے، اسی سادہ چٹائی پر بیٹھیں گے جس پر آپ بیٹھا کرتے تھے، اور آپ کے اس تھوڑے سے کھانے میں سے کھائیں گے جسے آپ ایثار کرتے ہوئے دوسروں کو دے دیا کرتے تھے۔
آپ صحابہ کرام کے بیان سے گویا آپ کے گھر میں داخل ہو سکتے ہیں۔۔ آپ کو پرسکون سوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں اور زندگی سے بھرپور بیٹھے ہوئے بھی، اور شاید آپ کی گود میں کوئی دودھ پیتا بچہ اور آپ کی پیٹھ پر سوار کوئی ننھا بچہ بھی نظر آئے جو آپ کی برکت و محبت سے فیض یاب ہو رہا ہو۔
تو پھر یہ عظیم انسان، یہ کریم نبی، اپنی بشری فطرت اور اپنے مشنِ رسالت کو کیسے نبھاتے تھے؟!
وہ روز و شب کے اس چکر سے کیسے نمٹتے تھے؟!
اور اپنا دن کیسے گزارتے تھے؟!
یہ ہے نبی کا دن، رسول کا دن، انسان کا دن، ذمہ دار کا دن، باپ کا دن، شوہر کا دن اور دوست کا دن۔۔ یہ ہے ''رسول اللہ کے یومیہ معمولات''، اور یہ کتاب اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔۔
عبدالوہاب بن ناصر الطریری